ڈیرہ اسماعیل خان (ڈسٹرکٹ نیوز)
ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے ملانہ میں والی بال میچ دیکھ کر واپس آنے والے افراد پر مسلح ملزمان کی فائرنگ سے چھ نوجوان جاں بحق جبکہ دو زخمی ہو گئے۔ پولیس نے قتل، اقدام قتل اور دیگر دفعات کے تحت آٹھ نامزد اور پانچ نامعلوم، مجموعی طور پر 13 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ دوسری جانب جاں بحق نوجوانوں کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد انہیں آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا، جبکہ لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ گومل یونیورسٹی میں درج ایف آئی آر کے مطابق 33 سالہ ہیبت اللہ ولد کفایت اللہ بلوچ نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ڈاٹسن گاڑی میں جبکہ دیگر افراد موٹر سائیکلوں پر کچہ ملانہ میں منعقدہ والی بال میچ دیکھنے کے بعد واپس جا رہے تھے۔ اس دوران گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول ملانہ کے قریب راستے میں موجود مسلح افراد نے انہیں روک کر فائرنگ کر دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں یو بی ایل فتح موڑ کے برانچ منیجر قدرت اللہ ولد سمیع اللہ، ایم ٹی آئی پیرامیڈیکل سے وابستہ عمر فاروق ولد غلام فاروق، محمد شہریار ولد بشیر احمد، محمد اجمل ولد ہدایت اللہ، قیصر ولد الطاف اور محمد ارسلان ولد غلام جیلانی بلوچ جاں بحق ہو گئے، جبکہ سعداللہ ولد کفایت اللہ اور افضل ولد الطاف زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد کا تعلق کوٹ شہبانی سے بتایا گیا ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈیرہ منتقل کر دیا گیا۔
مدعی مقدمہ نے الزام لگایا ہے کہ ملزمان کے ساتھ ان کی سابقہ قتل مقاتلے کی دشمنی چلی آ رہی ہے اور مبینہ طور پر یہ حملہ شاہد لطیف کی ایما پر کیا گیا۔ ایف آئی آر میں ساجد لطیف، زاہد لطیف پسران لطیف الرحمن، عمر ولد ربنواز، نوید ولد خورشید، عزیزاللہ ولد مسعود احمد، مصباح ولد عبداللہ، ذکاء اللہ ولد عبیداللہ اور شاہجہان ولد اللہ وسایا، ساکنان ملانہ پکہ، سمیت پانچ نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 324، 148، 149، 109 اور 427 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے جبکہ زخمیوں کو طبی معائنے اور علاج کے لیے متعلقہ عملے کے حوالے کیا گیا۔
واقعے میں جاں بحق ہونے والے چھ نوجوانوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں لواحقین، عزیز و اقارب اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں تمام نوجوانوں کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
تدفین کے بعد مقتولین کے لواحقین نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
