ڈیرہ اسماعیل خان (خصوصی رپورٹ): ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان میں قیمتی طبی سامان اور ادویات کے مبینہ طور پر غائب ہونے کے معاملے نے تشویش پیدا کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈی سی یو وارڈ میں تعینات ایک نجی صفائی کارکن کو مبینہ طور پر کینولا کے دو ڈبے ڈسٹ بن کے ذریعے ہسپتال سے باہر لے جاتے ہوئے پکڑا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ سامان کی مالیت تقریباً 48 ہزار روپے ہے۔ واقعے کے بعد ایم ٹی آئی حکام کی جانب سے متعلقہ ملازم کو ملازمت سے فارغ کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
دوسری جانب عوامی و سماجی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر ہسپتال سے طویل عرصے سے قیمتی ادویات یا طبی سامان کے غائب ہونے کی شکایات موجود ہیں تو معاملے کی تحقیقات صرف ایک ملازم تک محدود نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ ادویات کی خریداری، اسٹور، تقسیم اور ریکارڈ سمیت پورے نظام کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ واقعے کی انکوائری کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحقیقات کسی متعلقہ سرکاری افسر کے بجائے نجی سیکیورٹی کمپنی کے اہلکار کے ذریعے کرائی جا رہی ہیں، جس پر شفاف تحقیقات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
عوامی، سماجی اور تجارتی حلقوں نے کمشنر ڈیرہ دائود خان اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ حکمت اللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہسپتال میں گزشتہ عرصے کے دوران مبینہ طور پر غائب ہونے والی ادویات اور حالیہ واقعے کی اعلیٰ سطحی، غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ریکارڈ کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور تحقیقات کے نتیجے میں کسی فرد یا گروہ کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آنے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
