بین الاقوامی مارکیٹ میں برآمد شدہ منشیات کی مالیت تقریباً 74 ارب روپے ہے، محمد زمان خان موسیٰ خیل زمری
رپورٹ: خانزادہ موسیٰ خیل
گڈانی کے ساحلی علاقے میں ایکسائز اینڈ نارکوٹکس ساؤتھ زون بلوچستان نے منشیات کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے 1013 کلوگرام خالص آئس (کرسٹل میتھ) برآمد کرلی۔
حکام کے مطابق برآمد شدہ منشیات کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مالیت تقریباً 74 ارب روپے بنتی ہے۔ کارروائی کو بلوچستان میں منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ نارکوٹکس ساؤتھ زون بلوچستان محمد زمان خان موسیٰ خیل زمری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کامیاب کارروائی سے منشیات فروش مافیا کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل ایکسائز محمد زمان خان موسیٰ خیل زمری نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کے وژن کے مطابق ڈرگ فری بلوچستان اور ڈرگ فری پاکستان کے لیے منشیات کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔
محمد زمان خان موسیٰ خیل زمری کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران ساحلی پٹی سمیت مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 1,638 کلوگرام آئس، 620 کلوگرام چرس اور 27,543 بوتلیں و کین غیر ملکی شراب و بیئر برآمد کیے گئے، جن کی بین الاقوامی مالیت تقریباً 133.56 ارب روپے بنتی ہے۔
ڈی جی ایکسائز محمد زمان خان موسیٰ خیل زمری نے کہا کہ محکمہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف آپریشن مزید مؤثر بنائے گا نوجوان نسل کو منشیات کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھنے اور ملکی ساحلی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
ایکسائز حکام کے مطابق گڈانی کے ساحلی علاقے میں ہونے والی حالیہ کارروائی نہ صرف منشیات کے بڑے نیٹ ورک کے خلاف اہم پیش رفت ہے بلکہ اس سے بلوچستان کی ساحلی پٹی کے ذریعے منشیات کی ممکنہ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے محکمہ ایکسائز کی نگرانی اور کارروائیوں کی شدت کا بھی اندازہ ہوتا ہے
پریس کانفرنس کے دوران ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ نارکوٹکس ساؤتھ زون بلوچستان محمد زمان خان موسیٰ خیل زمری نے منشیات کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری شکیل قادر خان سے حسبِ ضرورت تعاون اور سپورٹ کی درخواست بھی کی۔
بطور صحافی میری رائے میں اگر حکومت بلوچستان واقعی ڈرگ فری بلوچستان اور ڈرگ فری پاکستان کے وژن کو عملی شکل دینا چاہتی ہے تو محمد زمان خان موسیٰ خیل زمری جیسے افسر کو جدید وسائل فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بلوچستان کی طویل ساحلی پٹی میں کوسٹ گارڈ اور دیگر سکیورٹی ادارے اپنی استعداد کے مطابق گاڑیوں، ہیوی جیپوں اور دیگر ذرائع سے پٹرولنگ کرتے ہیں، لیکن منشیات کے اسمگلروں کے نیٹ ورک بھی وقت کے ساتھ جدید طریقے اختیار کر رہے ہیں۔
ایسے میں میری تجویز ہے کہ حکومت بلوچستان ایکسائز اینڈ نارکوٹکس ساؤتھ زون کو جدید نگرانی اور آپریشنز کے لیے ایک بلٹ پروف ہیلی کاپٹر فراہم کرنے پر سنجیدگی سے غور کرے۔
اگر ایکسائز محکمہ کو جدید فضائی نگرانی کی سہولت حاصل ہو جائے تو ساحلی علاقوں، دشوار گزار راستوں اور ان مقامات کی مؤثر نگرانی ممکن ہو سکتی ہے جہاں زمینی ذرائع سے فوری رسائی مشکل ہوتی ہے۔ اس سے مشتبہ نقل و حرکت کی نگرانی، متعلقہ اداروں کے ساتھ بروقت رابطہ اور منشیات کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کی استعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
1013 کلوگرام خالص آئس کی حالیہ برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر وسائل، عزم اور مؤثر نگرانی میسر ہو تو منشیات کے بڑے نیٹ ورک کو بھی بھاری نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
میری نظر میں اگر حکومت بلوچستان محمد زمان خان موسیٰ خیل زمری کو جدید فضائی نگرانی سمیت مطلوبہ وسائل فراہم کرے تو ایکسائز اینڈ نارکوٹکس ساؤتھ زون بلوچستان اس سے بھی زیادہ مؤثر کارروائیاں کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کو منشیات کے ناسور سے بچانے میں مدد ملے گی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے منشیات کے خلاف اقدامات اور ساحلی سکیورٹی کی صلاحیت کا ایک مثبت اور مضبوط تاثر قائم ہوگا۔
یہ صرف ایک افسر یا ایک محکمے کی ضرورت نہیں بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل اور ملک کی سلامتی کا معاملہ ہے۔ حکومت اگر منشیات کے ظخلاف جنگ کو واقعی نتیجہ خیز بنانا چاہتی ہے تو اسے افسران سے صرف نتائج نہیں بلکہ نتائج دینے کے لیے جدید وسائل بھی فراہم کرنے ہوں گے۔
