چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس آصف بھی شامل تھے۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک، پراسیکیوٹر جنرل منظور ججہ، آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف سیکریٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا نے اپنے بیانات حلفی بھی عدالت میں جمع کرائے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے 2022 اور 2024 کے پی ٹی آئی احتجاج سے متعلق ویڈیوز عدالت میں چلانے کی اجازت طلب کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے لانگ مارچ کو پرامن قرار دیا جارہا ہے جبکہ بعض بیانات بھی عدالت کے سامنے رکھے گئے۔
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ ویڈیوز چلانا اس عدالت کی روایت نہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ میں بھی ایسی ویڈیوز چلائی جاتی رہی ہیں، تاہم چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ہائیکورٹ میں ایسی روایت قائم نہیں کرنا چاہتے۔
عدالت نے متفرق درخواست اور دیگر دلائل کا جائزہ لینے کے بعد سماعت مکمل کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا۔
کیس میں خیبرپختونخوا حکومت کے اعلیٰ حکام کے بیانات اور ممکنہ احتجاج سے متعلق مؤقف بھی عدالت کے سامنے رکھا گیا۔
