پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے ابتدائی روز انگلینڈ کے فاسٹ بولرز جوش ٹنگ اور اولی رابنسن نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے پانچ، پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ دونوں کی عمدہ کارکردگی کے باعث پاکستان کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 171 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
دونوں بولرز کے لیے دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب پانچ وکٹیں لینے کے بعد یادگاری طور پر میچ کی گیند اپنے پاس رکھنے کی روایت سامنے آئی۔ چونکہ ایک ہی اننگز میں دونوں نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا، اس لیے گیند کسی ایک کو دینے کے بجائے ایک منفرد حل نکالا گیا۔
جوش ٹنگ کے مطابق اولی رابنسن نے تجویز دی کہ گیند کو درمیان سے کاٹ کر دونوں میں تقسیم کرلیا جائے۔ گراؤنڈ اسٹاف نے اس تجویز پر عمل کرتے ہوئے گیند کے دو حصے کر دیے، جس کے بعد دونوں کھلاڑیوں کو اس تاریخی کارکردگی کی یادگار کے طور پر ایک ایک حصہ مل گیا۔
جوش ٹنگ نے 46 رنز کے عوض پانچ جبکہ اولی رابنسن نے 51 رنز دے کر پانچ پاکستانی کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ دن کے اختتام پر انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 112 رنز بنا لیے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انگلینڈ کے دو بولرز کی جانب سے ایک ہی ٹیسٹ اننگز میں پانچ، پانچ وکٹیں لینے کا ایسا واقعہ تقریباً دو دہائیوں بعد دیکھنے میں آیا۔ یہ کارکردگی نہ صرف انگلینڈ کی باؤلنگ کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ دونوں بولرز کے لیے گیند کو آدھا آدھا تقسیم کرنا بھی میچ کی ایک منفرد یاد بن گیا۔
