ٹرمپ اور یمنی صدر کے درمیان رابطہ، حوثیوں کے خلاف مدد کی درخواست
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، جس میں یمن کی تازہ صورتحال، حوثیوں کی پیش قدمی اور باب المندب کے قریب ان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چار باخبر ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رشاد العلیمی نے سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی جانب سے حوثیوں کے خلاف کارروائی میں امریکی تعاون کی درخواست کی۔
تاہم رائٹرز سے گفتگو کرنے والے دو ذرائع، جن میں ایک یمنی اور ایک مغربی اہلکار شامل تھا، کے مطابق امریکی صدر نے گفتگو کے دوران یمن کو کسی براہِ راست فوجی مدد کی فراہمی کا وعدہ نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حوثی جنگجوؤں نے باب المندب کے قریب بعض اہم علاقوں میں اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ باب المندب عالمی بحری تجارت کے لیے اہم سمندری راستہ ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ اس سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی درخواستوں کو بھی مسترد کر چکے ہیں۔ چند روز قبل سعودی ولی عہد سے ٹیلی فونک گفتگو میں ٹرمپ نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ امریکا حوثیوں سے رابطے میں ہے اور حوثیوں نے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کی بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف فوجی معاونت طلب کی تھی، تاہم حوثیوں کی جانب سے اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی مبینہ یقین دہانی کے بعد اسرائیل نے سعودی عرب کی درخواست مسترد کردی۔ ان دعوؤں پر سعودی حکومت کی جانب سے تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ادھر نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ سعودی ولی عہد کی درخواست پر صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کو حوثیوں کے خلاف کارروائی کی تیاری کا حکم دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق فوجی تیاری آخری مراحل میں پہنچنے کے بعد ٹرمپ نے کارروائی روکنے کی ہدایت کی۔
نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کی بھی امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے تاحال نہ تصد
