یمن میں حوثیوں کے مبینہ میزائل حملے، حضرموت اور الجوف میں کشیدگی میں اضافہ
یمن میں جاری تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق، حوثی گروپ نے جنوبی یمن کے صوبہ حضرموت میں حکومتِ یمن کی حمایت یافتہ فورسز کے زیرِ استعمال ایک فوجی مقام پر میزائل حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اس حملے میں متعدد سرکاری اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے، تاہم متاثرین کی حتمی تعداد کے بارے میں آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
اسی دوران ایک اور اہم پیش رفت میں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ایک بیلسٹک میزائل مشرقی یمن کے الجوف گورنری میں ایک حوثی مخالف قبائلی اجتماع کے قریب آ کر گرا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق میزائل اجتماع کے قریب گرا، تاہم اس واقعے میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات ابھی تک جاری نہیں کی گئیں۔
یمن گزشتہ کئی برسوں سے خانہ جنگی، سیاسی عدم استحکام اور علاقائی کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ملک میں مختلف مسلح گروہوں، حکومت نواز فورسز اور دیگر فریقوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں اور حملے ہوتے رہتے ہیں، جن کے باعث شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
حضرموت یمن کا ایک اہم اور وسیع صوبہ ہے، جہاں سرکاری فورسز اور مختلف قبائلی گروہ سرگرم ہیں۔ دوسری جانب الجوف گورنری بھی طویل عرصے سے مختلف عسکری کارروائیوں اور جھڑپوں کا مرکز رہی ہے۔ ان دونوں علاقوں میں حالیہ واقعات نے ایک مرتبہ پھر سکیورٹی صورتحال کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق اگر ایسی کارروائیاں جاری رہتی ہیں تو یمن میں جاری تنازع مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے اور خطے کے امن و استحکام پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی کئی ممالک مختلف سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں یمن میں کشیدگی کا بڑھنا پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
تاحال یمنی حکومت، مقامی حکام یا بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ان دونوں واقعات کی مکمل اور آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسی وجہ سے ان رپورٹس کو احتیاط کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مزید معلومات اور سرکاری بیانات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق یمن کی موجودہ صورتحال صرف ملکی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات بحیرۂ احمر، باب المندب اور خطے کی مجموعی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی برادری یمن میں ہونے والی ہر بڑی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اگر آئندہ دنوں میں ان حملوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہوتی ہے تو یہ واقعہ یمن میں جاری تنازع کے ایک اور اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات مختلف ذرائع کی رپورٹس پر مبنی ہیں، اور مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
