آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تیل بردار ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنائے جانے کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم جہاز پر سوار عملہ محفوظ رہا۔
برطانیہ کی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعے کی اطلاع موصول ہوئی، جس میں ایک ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نقصان پہنچا اور اس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔
یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متعلقہ حکام معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ٹینکر کے عملے کے تمام افراد محفوظ ہیں، تاہم جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت اور ممکنہ ماحولیاتی اثرات کے بارے میں مکمل معلومات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔
برطانوی میری ٹائم حکام نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دیگر بحری جہازوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔
حکام کی جانب سے تاحال ٹینکر کا پرچم، منزل اور روانگی کی بندرگاہ ظاہر نہیں کی گئی۔ یہ معلومات بھی سامنے نہیں آئی کہ جہاز میں خام تیل، ایل این جی یا کوئی دوسری مصنوعات موجود تھیں۔
واقعے کی ذمہ داری بھی ابھی تک کسی ملک یا گروپ نے قبول نہیں کی۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔ حالیہ عرصے کے دوران اس گزرگاہ میں متعدد بحری سکیورٹی واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔
تازہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور عالمی توانائی کی ترسیل پر خصوصی توجہ مرکوز ہے۔ تاہم ٹینکر پر حملے کے ذمہ دار کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔
