دوحہ: ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے امریکا کو 48 گھنٹوں پر مشتمل ایک نیا منصوبہ پیش کردیا ہے، جس میں دونوں ممالک کے لیے مرحلہ وار اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق منصوبے کے پہلے روز امریکا کو ایران کے مطالبات سے متعلق بعض اقدامات کرنا ہوں گے، جبکہ دوسرے روز آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور بحری نقل و حرکت معمول پر لانے کی تجویز ہے۔
خلیجی اخبار گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ قطر کی ثالثی میں جاری سفارتی رابطوں کے دوران سامنے آیا۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ اس سے قبل ایران نے سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں چھٹے روز آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز شامل تھی۔ تاہم قطری ثالثوں کے ساتھ مشاورت کے بعد اس منصوبے کو مختصر کرکے دو دن تک محدود کردیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذاکرات اب عملی اقدامات کے مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں، تاہم ان کا دورۂ دوحہ امریکی حکام سے براہ راست ملاقات کے لیے نہیں تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے اس منصوبے میں امریکی پابندیوں میں نرمی سمیت بعض شرائط بھی شامل کی ہیں، لیکن واشنگٹن کی جانب سے ابھی اس تجویز کو باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی فوج کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے، تاہم بحری جہازوں کی معمول کی آمدورفت اور مجوزہ معاہدے پر عمل درآمد کی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے مختلف ممالک کو تیل اور گیس کی بڑی مقدار فراہم کی جاتی ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں اور تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کرسکتی ہے
