کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روکنے کے لیے امریکا کے سامنے نئی تجویز پیش کردی ہے۔
زیلنسکی کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن یوکرین کو فضائی دفاعی نظام اور پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا عمل تیز کردے تو کیف روسی توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے۔
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے یوکرینی صدر نے بتایا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے ساتھ اس معاملے پر متعدد مرتبہ بات چیت کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کے نظام کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو کیف کے لیے جوابی کارروائی سے گریز کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
زیلنسکی نے واضح کیا کہ یوکرین امریکی دفاعی نظام مفت حاصل کرنے کے بجائے انہیں خریدنے اور اس مقصد کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے پر بھی آمادہ ہے۔
انہوں نے ایک ماہ کی مدت کے لیے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اس عرصے کے لیے مطلوبہ میزائل سسٹم فراہم کرے تو یوکرین بھی اسی مدت میں روسی آئل ریفائنریوں پر حملے روک سکتا ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے اس پیشکش کو دباؤ قرار دیے جانے کے امکان سے متعلق سوال پر زیلنسکی نے کہا کہ بڑے اتحادیوں کے ساتھ زمینی حقائق اور ضروریات کا تبادلہ کرنا ان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔
