اسلام آباد: تحریک انصاف کے احتجاج کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اور اطراف میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر بڑی تعداد میں کنٹینرز پہنچا دیے گئے جبکہ خیبرپختونخوا کو اسلام آباد سے ملانے والے بعض پہاڑی راستے بھی بند کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مارگلہ کے پہاڑوں سے اسلام آباد کی جانب آنے والی پگڈنڈیوں پر بھی پولیس اہلکار تعینات کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ مارگلہ روڈ، سرینگر ہائی وے اور ایکسپریس ہائی وے کو ملانے والی سڑکوں پر بھی کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔
26 نمبر چونگی، فیض آباد اور ٹی چوک روات سمیت مختلف مقامات پر بھی بڑی تعداد میں کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں۔ این فائیو اٹک خورد پل پر کنٹینرز کے ساتھ سڑک پر نوکیلے کیلوں والی لوہے کی پلیٹیں نصب کرنے کا عمل بھی جاری ہے، جس کے باعث ان راستوں سے گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف اٹک میں 30 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ پنجاب حکومت نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے درمیان آمدورفت کے متعدد راستے بھی بند کر دیے ہیں۔
راستوں کی بندش کے باعث ایئرپورٹس جانے والے مسافروں اور ہسپتالوں کا رخ کرنے والے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم اور آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا نے اٹک کا دورہ کیا۔ دونوں افسران نے موٹر وے ایم ون پر مختلف سیلنگ اور بلاکنگ پوائنٹس، غازی بروتھا اور ہزارہ موٹر وے سمیت این فائیو اٹک خورد پل پر سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔
