اسلام آباد: بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ اور سابق رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے عوامی نمائندگی میں مالی شفافیت اور اصولی سیاست کی ایک منفرد مثال قائم کرتے ہوئے بطور رکن قومی اسمبلی حاصل کی گئی تمام تنخواہیں اور مراعات سرکاری خزانے میں واپس کر دیں۔سردار اختر مینگل نے 78 لاکھ 92 ہزار 725 روپے کا چیک قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے حوالے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو ایک تحریری خط بھی ارسال کیا، جس میں درخواست کی کہ ان کے پارلیمانی اکاؤنٹ میں موجود تمام رقم بھی قومی خزانے میں منتقل کر دی جائے۔اپنے خط میں سردار اختر مینگل نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے بعد اس رقم سے کوئی ذاتی فائدہ حاصل نہیں کیا، اس لیے تمام تنخواہیں اور مراعات واپس کرنا اپنا قومی اور اخلاقی فرض سمجھتے ہیں۔واضح رہے کہ سردار اختر مینگل نے بلوچستان کے مسائل اور اپنے سیاسی مؤقف کے تناظر میں 3 ستمبر 2024 کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا، جسے بعد ازاں 11 فروری 2026 کو منظور کر لیا گیا۔سیاسی حلقوں میں سردار اختر مینگل کے اس اقدام کو اصولی سیاست، مالی دیانت داری اور عوامی نمائندگی میں شفافیت کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے اس فیصلے پر مختلف حلقوں میں تبصرے جاری ہیں اور اسے پاکستانی سیاست میں ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔