جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ شیر افضل مروت نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنائے جانے کا عمل آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ کے منصب سے ہٹانے کا طریقہ کار آئین کے آرٹیکل 130 کی شق 8 سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق علی امین گنڈاپور نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا جبکہ گورنر نے ابتدائی استعفیٰ بھی منظور نہیں کیا تھا۔
شیر افضل مروت نے مؤقف اپنایا کہ آئین کے مطابق وزیراعلیٰ سے زبردستی استعفیٰ نہیں لیا جاسکتا اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سزا یافتہ اور نااہل ہیں، اس لیے وہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے ہدایات جاری نہیں کرسکتے۔ ان کے مطابق عمران خان آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے اور انہی آئینی دفعات کے تحت انہیں نااہل قرار دیا گیا ہے۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر لیا گیا جبکہ انہیں تاحال ڈی نوٹیفائی بھی نہیں کیا گیا، اس لیے آئینی طریقہ کار کے بغیر نئی تعیناتی درست نہیں ہوسکتی۔
سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کے فریقین اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو نوٹس جاری کردیے اور سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔
