ایرانی حملے سے قبل چینی اداروں سے امریکی اڈے کی تصاویر لینے کی رپورٹ، ٹرمپ نے اہمیت کم کردی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس رپورٹ کو زیادہ اہمیت دینے سے گریز کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے پر حملے سے قبل چینی اداروں سے اس تنصیب کی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق جولائی میں اردن کے موافق السلطی ایئربیس پر ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں 3 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 4 زخمی ہوئے تھے۔ امریکی حکام نے مبینہ طور پر وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ایران نے حملے سے پہلے اور بعد میں اڈے کی ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی تھیں اور ان تصاویر کو حملے کی تیاری سے منسلک کیا گیا۔
تاہم امریکی حکام کی جانب سے چینی حکومت پر براہِ راست حملے میں معاونت کا الزام عائد نہیں کیا گیا، جبکہ مبینہ طور پر تصاویر فراہم کرنے والے چینی اداروں کے نام بھی سامنے نہیں لائے گئے۔
چینی حکومت نے امریکی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کسی چینی کمپنی کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے یہ معاملہ چینی حکام کے سامنے اٹھایا، جس پر بیجنگ نے مبینہ شواہد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ متوقع ملاقات میں اس معاملے پر بات کریں گے۔ امریکی صدر نے براہِ راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ چین بھی امریکا کی جاسوسی کرتا ہے اور امریکا بھی چین پر نظر رکھتا ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین کے درمیان پہلے ہی متعدد حساس امور پر اختلافات موجود ہیں اور دونوں ممالک کے صدور کے درمیان آئندہ سربراہی ملاقات متوقع ہے۔ تاہم دستیاب معلومات کے مطابق چینی حکومت کو اس حملے میں براہِ راست ملوث کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی واضح ثبوت سامنے نہیں آیا۔
