افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمت تیز، فریڈم فرنٹ کی ایک ماہ کی کارروائیوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
کابل: افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف سیاسی اور مسلح مزاحمت میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ طالبان مخالف مسلح گروپ افغانستان فریڈم فرنٹ نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔
فریڈم فرنٹ کے مطابق 23 جولائی سے 22 اگست کے درمیان طالبان کے خلاف مجموعی طور پر 21 کارروائیاں کی گئیں۔
جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ان کارروائیوں کا مرکز صوبہ بدخشان رہا، جہاں زیباک اور فیض آباد کے اطراف طالبان فورسز کے ساتھ متعدد جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
فریڈم فرنٹ کے مطابق بدخشان کے علاوہ بغلان، ننگرہار، فاریاب، نورستان اور پنجشیر میں بھی طالبان کے مختلف سکیورٹی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
گروپ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ کارروائیوں کے دوران طالبان کے سکیورٹی قافلوں، چوکیوں، فوجی سازوسامان، ڈرونز اور بعض دفاعی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔
فریڈم فرنٹ کے مطابق کابل اور کندوز میں موجود عسکری ہوائی اڈوں پر بھی میزائل اور راکٹ حملے کیے گئے۔
گروپ نے مزید دعویٰ کیا کہ مختلف علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران طالبان کو بعض مقامات پر دفاعی پوزیشنوں سے پیچھے ہٹنا پڑا، جبکہ مزاحمتی فورسز نے کچھ اہم دفاعی مقامات پر کنٹرول حاصل کیا۔
افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق ان کارروائیوں کے نتیجے میں طالبان کے متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی بھی ہوئے۔
تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے، جبکہ طالبان حکومت کی جانب سے ان کارروائیوں اور جانی نقصان کے بارے میں کوئی واضح مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔
