پاکستان کے بحری شعبے میں اربوں ڈالر سرمایہ کاری کی راہ ہموار، بڑی پیش رفت
اسلام آباد: پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بحری شعبے میں 6 سے 9 ارب ڈالر تک کی ممکنہ سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری کے مطابق عالمی سطح پر شپنگ سرگرمیوں میں آنے والی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کی جغرافیائی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے اور بین الاقوامی سرمایہ کار ملک کے بحری شعبے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق مجوزہ سرمایہ کاری میں کارگو ٹرمینلز، ایل این جی ٹرمینلز، آئل ٹرمینلز اور کنٹینر ٹرمینلز سمیت مختلف بڑے منصوبے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو خطے میں محض ایک عارضی متبادل راستے کے بجائے مستقل علاقائی میری ٹائم ہب کے طور پر ترقی دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
جنید انور چوہدری کے مطابق گزشتہ مالی سال پاکستان نے اپنی جغرافیائی اور بحری اہمیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میری ٹائم سیکٹر سے تقریباً 39.6 کروڑ ڈالر کا منافع حاصل کیا۔
انہوں نے بتایا کہ نیشنل پورٹس ماسٹر پلان کے تحت بنکرنگ سہولیات، آف ڈاک ٹرمینلز اور ٹرانس شپمنٹ کی اضافی صلاحیت پیدا کرنے پر کام جاری ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسی کا مقصد صرف ملکی مجموعی پیداوار میں بحری شعبے کا حصہ بڑھانا نہیں، بلکہ میری ٹائم معیشت کو زرمبادلہ کمانے، صنعتی سرگرمیوں میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا اہم ذریعہ بنانا ہے۔
ان کے مطابق حکومت نے 2047 تک پاکستان کی میری ٹائم معیشت کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بحری انفرااسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور جدید سہولیات کی فراہمی سے پاکستان عالمی تجارت، علاقائی رابطوں اور معاشی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرسکتا ہے۔
