کراچی کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت شرقی نے اینکر پرسن اور عوام راج پارٹی کے سربراہ اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ درخواست پر فیصلہ اسی روز سنائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا۔
سماعت کے دوران اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کو 12 اکتوبر کی رات لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے میں واقع گھر سے گرفتار کیا گیا۔ وکیل کے مطابق ایف آئی آر میں گرفتاری کا وقت درج نہیں اور مقدمے کی بنیاد سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی ایک ویڈیو کو بنایا گیا ہے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں کوئی شکایت کنندہ یا متاثرہ فریق سامنے نہیں آیا اور ان کے مؤکل کے خلاف اختیار کیا گیا طریقہ کار قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اقرار الحسن کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف اظہارِ رائے کو جرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔
میاں علی اشفاق نے گرفتاری اور جسمانی ریمانڈ کے طریقہ کار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور میں گرفتاری کے لیے متعلقہ قانونی اجازتوں اور راہداری ریمانڈ سے متعلق امور کی وضاحت ضروری ہے۔ انہوں نے عدالت سے اقرار الحسن کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی۔
سماعت کے دوران اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار کو بھی عدالت میں طلب کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتاری کے وقت تفتیشی افسر موقع پر موجود نہیں تھا۔ دوسری جانب تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تحقیقات جاری ہیں اور ملزم کے موبائل فون سمیت دیگر ڈیجیٹل آلات سے حاصل ہونے والے تقریباً 10 جی بی ڈیٹا کا تجزیہ کیا جانا باقی ہے۔
اقرار الحسن کی متنازع ویڈیو کا ٹرانسکرپٹ بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
