اسلام آباد :(عبدالوہاب خان نیوز ڈیسک): ڈی-8 آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن کے سیکرٹری جنرل امبیسیڈر سہیل محمود نے کہا ہے کہ ڈی-8 تنظیم ترقی پذیر مسلم ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، پائیدار ترقی اور علاقائی استحکام کے فروغ میں ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہی ہے، جبکہ رکن ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
ڈی-8 کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق امبیسیڈر سہیل محمود نے 15 تا 17 جون 2026 ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ ڈی-8 کمیشن کے 51ویں اجلاس اور تنظیم کے 29ویں یومِ تاسیس کی تقریبات میں شرکت کی۔ اجلاس میں رکن ممالک کے اعلیٰ حکام اور نمائندوں نے تنظیم کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور مستقبل کی حکمت عملی پر غور کیا۔
سیکرٹری جنرل نے اجلاس میں پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا کہ 2026 کے پہلے نصف حصے کے دوران ڈی-8 سیکرٹریٹ نے بین الاقوامی شراکت داریوں کو وسعت دینے، تجارت، توانائی، سیاحت، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی، نوجوانوں اور رابطہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے نمایاں اقدامات کیے ہیں۔ اجلاس میں جکارتہ میں ہونے والے 12ویں ڈی-8 سربراہی اجلاس کی تیاریوں اور ڈی-8 ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
امبیسیڈر سہیل محمود نے اپنے خطاب میں ڈی-8 کے بانی رہنما مرحوم پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین اربکان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1997 میں استنبول سے شروع ہونے والا یہ سفر آج ایک ایسی تنظیم کی شکل اختیار کر چکا ہے جو ایک ارب سے زائد آبادی اور کھربوں ڈالر کی مجموعی معیشت کی نمائندگی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی چیلنجز، جن میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی، معاشی غیر یقینی صورتحال، موسمیاتی تبدیلی اور تیز رفتار تکنیکی تبدیلیاں شامل ہیں، کے تناظر میں ڈی-8 کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم جنوبی ممالک کے درمیان تعاون، اقتصادی انضمام، پائیدار ترقی اور کثیرالجہتی روابط کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ سیکرٹری جنرل نے آذربائیجان کی بطور نویں رکن ریاست شمولیت، باکو میں ڈی-8 وزرائے توانائی کے پہلے اجلاس کے انعقاد اور مختلف علاقائی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی اہم کامیابیاں قرار دیا۔
دورۂ انقرہ کے دوران امبیسیڈر سہیل محمود نے ترکیہ کی پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین فواد اوکتائے، ترک ادارہ برائے بین الاقوامی تعاون (TİKA) کے صدر عبداللہ ایرن اور کوسگیب (KOSGEB) کے صدر احمت سردار ابراہیم چی اوغلو سمیت متعدد اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ملاقاتوں میں رکن ممالک کے درمیان تجارت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs)، ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت، نوجوانوں کی ترقی اور علاقائی اقتصادی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امبیسیڈر سہیل محمود نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ڈی-8 سیکرٹریٹ رکن ممالک کے ساتھ مل کر تنظیم کو مزید مضبوط، متحرک اور مؤثر بنانے کے لیے کام جاری رکھے گا تاکہ عوام کو عملی فوائد پہنچائے جا سکیں اور خطے میں ترقی، خوشحالی اور پائیدار امن کے حصول میں معاونت فراہم کی جا سکے۔