ڈسٹرکٹ نیوز میڈیا کی ایک خصوصی اور تفصیلی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی ایک اعلیٰ عدالت نے معروف ٹیک دیو میٹا (فیس بک، انسٹاگرام، اور واٹس ایپ کی سرپرست کمپنی) کے خلاف بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک تاریخی اور اہم ترین فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے میٹا کو حکم دیا ہے کہ وہ بچوں کی ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کے لیے وقف کردہ ایک خاص فنڈ میں 567 ملین ڈالر کی خطیر رقم جمع کرائے۔ یہ رقم بچوں کے آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال سے ان کی ذہنی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات سے نمٹنے اور ان کے آن لائن تجربات کو محفوظ بنانے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
فیصلے میں نہ صرف مالیاتی جرمانہ عائد کیا گیا ہے، بلکہ عدالت نے میٹا کو چائلڈ اکاؤنٹس پر حفاظتی اقدامات کو مزید سخت اور جامع بنانے کی سخت ہدایات بھی دی ہیں۔ اس کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات، نامناسب مواد، سائبر دھونس، اور دیگر مسائل سے محفوظ رکھنا ہے جو ان کی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ میٹا کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے نئے اور سخت حفاظتی پروٹوکول کو فوری طور پر نافذ کیا جائے، بغیر کسی تاخیر کے۔
یہ فیصلہ اس بڑھتی ہوئی تشویش کے تناظر میں سامنے آیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر انسٹاگرام، بچوں کی ذہنی صحت، جسمانی تصویر، اور مجموعی فلاح و بہبود پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ عدالت کا یہ حکم ٹیک صنعت کے لیے ایک سنگ میل سمجھا جا رہا ہے، جو بچوں کے آن لائن تجربات کو محفوظ بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔
