ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کے ساتھ جاری سفارتی رسہ کشی اور کشیدگی کے دوران ایک بار پھر واشنگٹن کی دوغلی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایک طرف بڑے حملے کی دھمکیاں دینا اور دوسری طرف مذاکرات کی دعوت دینا محض ایک چکر اور “تھیٹر ڈپلومیسی” کے سوا کچھ نہیں۔
قالیباف نے واضح کیا کہ دباؤ ڈالنا، جھوٹے وعدے کرنا اور جعلی خبروں کو بطورِ ہتھکنڈہ استعمال کرنا ایک مکمل طور پر ناکام حکمت عملی بن چکی ہے۔ انہوں نے امریکہ کو دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک کرے اور اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے، کیونکہ ایران اب اس قسم کے سیاسی ڈراموں اور دباؤ کی سیاست کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور اسٹریٹجک امور پر یہ بیان خطے کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ عالمی و علاقائی سیاست کی تازہ ترین اور مصدقہ خبروں کے لیے ہماری ویب سائٹ کے ساتھ جڑے رہیں۔
