سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان نئے دفاعی معاہدے نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے بعد ایران کی جانب سے بھی اہم ردِعمل سامنے آیا ہے، جس میں تہران نے علاقائی ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون اور خود انحصاری کے بڑھتے ہوئے رجحان کو نمایاں کیا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس پیش رفت پر تشویش کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ خطے کے ممالک کی جانب سے اپنی سلامتی کے لیے زیادہ علاقائی تعاون اور خود انحصاری کی طرف بڑھنے کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے خطے کے ممالک کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون اسی وسیع تر علاقائی تبدیلی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
نئے دفاعی معاہدے میں تینوں ممالک کے درمیان باہمی دفاع اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی تعلقات کے تناظر میں ترکیہ کی شمولیت نے اس تعاون کو مزید وسیع علاقائی اہمیت دے دی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق معاہدے کو تینوں ممالک نے دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اور اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
ایرانی مؤقف میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تہران نے اس معاہدے کو براہِ راست اپنے خلاف خطرہ قرار دینے کے بجائے علاقائی سکیورٹی کے نئے رجحان کے طور پر دیکھا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اگر اس طرح کے علاقائی تعاون میں تمام متعلقہ ممالک کو شامل کیا جائے اور خطے کے حقیقی سکیورٹی مسائل کو مدنظر رکھا جائے تو اس سے استحکام پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس صورتحال کو بعض تجزیہ کار امریکہ کے روایتی سکیورٹی کردار کے حوالے سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ تاہم یہ کہنا زیادہ محتاط ہوگا کہ ایران کے بیان نے علاقائی ممالک کی جانب سے امریکی سکیورٹی ضمانتوں پر اعتماد میں کمی کے تاثر کو اجاگر کیا ہے، نہ کہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے لازماً انہی الفاظ میں یہ دعویٰ کیا ہو۔
سعودی عرب کے لیے یہ معاہدہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ ریاض ایک ایسے وقت میں اپنے دفاعی شراکت داروں کا دائرہ وسیع کر رہا ہے جب خطے میں میزائل، ڈرون اور سمندری سکیورٹی کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ معاہدہ خلیجی خطے کے ساتھ اس کے دیرینہ دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جبکہ ترکیہ اپنی جدید دفاعی صنعت اور علاقائی فوجی صلاحیتوں کے ذریعے اس تعاون میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایرانی حکام نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ علاقائی ممالک کے درمیان تعاون اگر جامع اور حقیقی سکیورٹی خدشات پر مبنی ہو تو اسے مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران فی الحال اس معاہدے کو فوری طور پر ایک مخالف فوجی اتحاد کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اس کے ممکنہ علاقائی اثرات کا جائزہ لے رہا ہے۔
مجموعی طور پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ خطے میں بدلتے ہوئے اتحادوں اور سکیورٹی شراکت داریوں کی ایک اہم مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ اس پیش رفت کے اثرات نہ صرف خلیجی خطے بلکہ پاکستان، ترکیہ اور ایران کے باہمی تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ یہ دفاعی تعاون کس حد تک عملی شکل اختیار کرتا ہے اور خطے کے دیگر ممالک اس نئی سکیورٹی ترتیب پر کیا ردِعمل دیتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایک بات واضح ہے کہ مشرق وسطیٰ اور اس سے ملحقہ خطوں میں روایتی سکیورٹی شراکت داریوں کے ساتھ ساتھ علاقائی دفاعی تعاون بھی تیزی سے اہمیت حاصل کر رہا ہے۔
