امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام مکمل غور و فکر کے بعد کیا گیا تھا اور امریکا اس تنازع میں اپنی برتری ثابت کرچکا ہے۔
ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے یوکرین جنگ کے خاتمے کی خواہش کا بھی اظہار کیا اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر مستقبل میں اے آئی انسانیت کے لیے خطرہ بنی تو اس سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب ٹرمپ نے امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی ان رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں فوجی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس وافر مقدار میں گولہ بارود موجود ہے اور دفاعی سازوسامان کی پیداوار میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بعض رپورٹس میں ٹوماہاک میزائلوں، پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے دفاعی نظاموں کے ذخائر سے متعلق خدشات سامنے آئے تھے، تاہم امریکی صدر نے ان دعوؤں کو غلط قرار دیا ہے۔
