اسلام آباد: سپریم کورٹ کے لارجر بینچ میں اس قانونی سوال پر غور جاری ہے کہ ایک سے زیادہ قتل کے مقدمات میں سنائی جانے والی عمر قید کی سزائیں بیک وقت نافذ ہوں گی یا ایک سزا مکمل ہونے کے بعد دوسری کا اطلاق ہوگا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے اس معاملے پر اپنا تحریری مؤقف عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔ جواب ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب طارق صدیق کے ذریعے پیش کیا گیا۔
پنجاب پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ ہر مقدمے میں سزاؤں کو یکے بعد دیگرے نافذ کرنے کا حکم دینا ضروری نہیں، تاہم غیر معمولی اور انتہائی سنگین جرائم میں عدالت وجوہات بیان کرتے ہوئے ایسا حکم دے سکتی ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق قتل، اغوا، جنسی زیادتی اور دہشت گردی جیسے جرائم میں، خصوصاً جب ان کی نوعیت انتہائی سفاکانہ ہو، سزاؤں کو الگ الگ نافذ کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ اس طریقۂ کار سے فوجداری نظام پر عوام کا اعتماد بڑھانے اور سزا کے مؤثر نفاذ میں مدد مل سکتی ہے۔
پنجاب حکومت نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ متعدد سزاؤں کے نفاذ کا طریقہ کار طے کرتے وقت معاشرتی انصاف اور جرائم کی سنگینی کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
تحریری جواب میں عمر قید کی سزا کی مدت سے متعلق بھی وضاحت دی گئی ہے۔ پراسیکیوشن کے مطابق پاکستان میں عمر قید کو عمومی طور پر 25 سال کی سزا شمار کیا جاتا ہے، تاہم معافیوں اور سزا میں تخفیف کے قواعد کے باعث عملی طور پر قید کی مدت مختلف ہوسکتی ہے۔
اس معاملے میں حتمی قانونی صورتِ حال سپریم کورٹ کے فیصلے سے واضح ہوگی۔
