اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی کے علاج معالجے اور انہیں اسپتال منتقل کرنے کے معاملے کے بعد اب ان سے ملاقات اور اہل خانہ سے فون پر بات نہ کروانے کے خلاف سپریم کورٹ میں دوسری توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی۔
درخواست ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ 18 اگست کے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اور عدالتی احکامات کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں کروائی گئی۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنے بیٹوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جا رہی، جبکہ یہ فون کالز مبینہ طور پر مارچ سے بند ہیں۔
درخواست کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ خان، علیمہ خان اور قاسم زمان کو بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے روکا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 18 اگست کے عدالتی حکم کے باوجود خاندان کو ہفتہ وار ملاقات کی سہولت فراہم نہیں کی گئی، جبکہ صرف نورین نیازی کو ملاقات کی اجازت دی گئی۔
درخواست میں وزیراعظم سمیت دیگر متعلقہ افراد کو فریق بنایا گیا ہے اور عدالتی حکم کی مبینہ خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست کے ساتھ اضافی دستاویزات بھی جمع کرائی گئی ہیں، جبکہ اضافی دستاویزات ریکارڈ پر لانے کے لیے دو متفرق درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی درخواستوں کے ساتھ بھی اضافی دستاویزات لف کی گئی ہیں۔
درخواست میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ جیل انتظامیہ نے وکالت نامے پر دستخط بھی نہیں لینے دیے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کو علاج کی غرض سے شفا ہسپتال منتقل نہ کرنے کے معاملے پر پہلی توہینِ عدالت کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عدالتی حکم واضح تھا اور اس میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ درخواست میں سپریم کورٹ سے عدالتی حکم پر فوری عملدرآمد اور مبینہ توہینِ عدالت پر کارروائی کی استدعا کی گئی ہے
