اسلام آباد: بجلی صارفین کے لیے ایک اور مشکل سامنے آگئی، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے جولائی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی۔
نیپرا کے مطابق درخواست کی سماعت 27 اگست کو ہوگی۔ اگر مجوزہ اضافہ منظور کرلیا گیا تو صارفین پر جی ایس ٹی سمیت تقریباً 41 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
سی پی پی اے نے درخواست کے ساتھ جولائی میں بجلی کی پیداوار پر آنے والی مختلف لاگت کی تفصیلات بھی نیپرا کو فراہم کی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں درآمدی ایل این جی سے 10.78 فیصد بجلی پیدا ہوئی، جس کی فی یونٹ لاگت 47 روپے 37 پیسے رہی، جبکہ اس پر مجموعی طور پر 77 ارب 19 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
فرنس آئل سے 1.42 فیصد بجلی پیدا کی گئی، جس کی فی یونٹ لاگت 50 روپے 7 پیسے رہی۔ ڈیزل سے پیدا ہونے والی بجلی کی فی یونٹ لاگت 54 روپے 47 پیسے ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب نیوکلیئر ذرائع سے جولائی میں 10.10 فیصد بجلی حاصل ہوئی، جس کی فی یونٹ لاگت صرف 3 روپے 2 پیسے رہی۔
جولائی کی مجموعی بجلی پیداوار میں پن بجلی کا حصہ 39.81 فیصد، مقامی کوئلے کا 10.91 فیصد جبکہ درآمدی کوئلے کا حصہ 14.38 فیصد رہا۔
نیپرا تمام اعداد و شمار اور بجلی پیدا کرنے کی لاگت کا جائزہ لینے کے بعد 27 اگست کی سماعت میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی فیصلہ کرے گا۔
