بلوچستان میں دہشت گردی جاری ، بارکھان میں ڈی ایس پی مرید بگٹی شہید، 11 افراد اغوا، متعدد گاڑیاں نذرِ آتش ، گورنر اور وزیر اعلی کا اظہار افسوس
- کوئٹہ/ بار کھان / کیچ / خضدار / نوشکی
(ڈسٹرکٹ نیوز) بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات کے دوران ضلع بارکھان کے علاقے رکھنی میں کھٹا چیک پوسٹ کے نزدیک دہشت گردوں کے حملے میں پولیس کے ڈی ایس پی مرید بگٹی شہید ہو گئے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
دوسری جانب ضلع کیچ اور خضدار سے مجموعی طور پر 11 افراد کو اغوا کر لیا گیا، جن میں سات مزدور بھی شامل ہیں۔ اغوا ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے متعلقہ اداروں نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
ادھر ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد نے متعدد مال بردار گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا، جبکہ ضلع نوشکی میں سیکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر حملے کے بعد فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ ان واقعات کے بعد مختلف علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی کاروباری مراکز بند رہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جبکہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔
گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کا اظہارِ افسوس
گورنر بلوچستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے رکھنی میں کھٹا چیک پوسٹ کے نزدیک دہشت گردوں کے حملے میں ڈی ایس پی مرید بگٹی کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے الگ الگ تعزیتی پیغامات میں انہوں نے شہید افسر کی بہادری، فرض شناسی اور خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شہید کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے، ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے شہید کے درجات کی بلندی، اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔