بلوچستان نے پہلی بار 114 فیصد ترقیاتی فنڈز خرچ کر دیے ،
منصوبہ بندی کے نظام میں تاریخی اصلاحات
**********
کوئٹہ (ڈسٹرکٹ نیوز)
صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ دو برس کے دوران ترقیاتی منصوبہ بندی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام میں تاریخی اصلاحات کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں صوبہ پہلی بار 114 فیصد ترقیاتی فنڈز استعمال کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے پہلی مرتبہ سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کی ہے، جبکہ پی ایس ڈی پی کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا کر منصوبوں کی آن لائن منظوری، جیو ٹیگنگ، ڈیٹا انٹیگریشن اور موبائل ایپ متعارف کرائی گئی ہے، جس سے شفافیت اور نگرانی کا نظام مزید مؤثر ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں 6 ہزار 728 ترقیاتی اسکیموں کے لیے 249 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم مؤثر منصوبہ بندی کے باعث 283 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ونگ نے 2022 منصوبوں کا معائنہ کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 378 فیصد زیادہ ہے۔
میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے 206 ارب روپے کی صوبائی پی ایس ڈی پی منظور کی گئی ہے، جس میں سب سے زیادہ فنڈز مواصلات و تعمیرات، اس کے بعد آبپاشی اور تیسرے نمبر پر تعلیم کے شعبے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی اپ گریڈیشن، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور معیاری تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم نے کہا کہ تمام پی سی ون مکمل طور پر ڈیجیٹائز کر دیے گئے ہیں اور منصوبہ بندی کا پورا نظام آن لائن کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 3 ہزار 20 مکمل شدہ اسکیموں کی گراؤنڈ ویریفکیشن میں صرف ایک منصوبہ نامکمل پایا گیا، جسے مزید کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے کے سماجی و اقتصادی اشاریوں پر پہلی جامع رپورٹ اور سرکاری ملازمتوں کے لیے 2 لاکھ 39 ہزار امیدواروں کا ڈیٹا بھی مرتب کیا گیا ہے تاکہ مستقبل کی منصوبہ بندی اور روزگار پروگراموں کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔
