نئی دہلی: بھارت میں تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق احتجاج میں شریک متعدد نوجوان زخمی ہوئے جبکہ کئی افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔
مظاہرین نے وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتی وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے تعلیمی نظام میں شفاف اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امتحانی معاملات میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔
احتجاجی تحریک سے وابستہ ایک سیاسی جماعت کے بانی ابھیجیت دیپکے نے پولیس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج جاری رکھا جائے گا۔ ان کا مؤقف تھا کہ خواتین اور نوجوانوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا، جو قابلِ افسوس ہے۔
بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بھی پولیس کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ طاقت کا استعمال مناسب نہیں، اور حکومت کو عوامی آواز سننی چاہیے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔ اطلاعات کے مطابق متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ 60 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔ بعض رپورٹس میں بتایا گیا کہ دہلی کے مختلف اسپتالوں میں بڑی تعداد میں زخمیوں کو منتقل کیا گیا۔
مزید برآں، انسانی حقوق کی بعض تنظیموں نے بھی احتجاج کے دوران پولیس کے طرزِ عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اس احتجاج کا اثر بیرونِ ملک بھی دیکھنے میں آیا، جہاں برطانیہ کے شہروں لندن اور مانچسٹر میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر بعض افراد نے مظاہرے کیے اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والی یہ تحریک اب حکومتی پالیسیوں اور نظامِ حکمرانی سے متعلق وسیع تر مطالبات کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔