اسلام آباد: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سابق چیئرمین کوآرڈینیشن، اور اٹک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بانی صدر مرزا عبدالرحمان نے وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورۂ ترکیہ کے دوران منعقد ہونے والے پاکستان۔ترکیہ بزنس فورم میں ملک کی نمائندہ کاروباری تنظیموں کو نظر انداز کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلے نہ صرف قومی تجارتی مفادات کے منافی ہیں بلکہ دنیا کے سامنے پاکستان کے کاروباری ڈھانچے کے بارے میں غلط تاثر بھی پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے تاکہ آئندہ قومی معاشی مفادات کو کسی بھی صورت نقصان نہ پہنچے۔مرزا عبدالرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ دنیا بھر میں جب بھی سربراہانِ مملکت یا حکومت کسی دوست ملک کا دورہ کرتے ہیں تو ان کے ساتھ متعلقہ شعبوں کے نمائندے، سرمایہ کار، صنعتکار، برآمد کنندگان اور چیمبرز آف کامرس کے عہدیداران بھی شریک ہوتے ہیں تاکہ سرکاری ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ عملی تجارتی روابط بھی استوار کیے جا سکیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ترکیہ جیسے برادر اسلامی ملک کے اہم دورے میں پاکستان کی سب سے بڑی نمائندہ تجارتی تنظیم ایف پی سی سی آئی اور دیگر کاروباری اداروں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ اس اہم دورے میں نہ صرف ایف پی سی سی آئی اور کاروباری برادری کے نمائندے موجود نہیں تھے بلکہ وفاقی وزیر تجارت کی عدم موجودگی بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ تجارت، سرمایہ کاری، برآمدات اور مشترکہ منصوبوں پر ہونے والے مذاکرات میں متعلقہ وزارت اور حقیقی کاروباری قیادت کی عدم شرکت کسی بھی طور پاکستان کے مفاد میں نہیں سمجھی جا سکتی۔مرزا عبدالرحمان کے مطابق اطلاعات کے مطابق ترکیہ میں ہونے والی متعدد بی ٹو بی (Business to Business) ملاقاتوں میں حکومتی جماعت سے وابستہ افراد شریک رہے، جبکہ ایسی ملاقاتوں کا اصل مقصد صنعتکاروں، تاجروں، برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہوتا ہے۔ یہ ذمہ داری ایف پی سی سی آئی اور کاروباری تنظیموں کی تھی، جن کے پاس نہ صرف وسیع تجربہ موجود ہے بلکہ وہ ملکی صنعت و تجارت کی حقیقی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی چیلنجز، برآمدات میں اضافے کی ضرورت، صنعتی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول جیسے اہم مراحل سے گزر رہا ہے۔ ایسے وقت میں اگر کاروباری برادری کو ہی فیصلوں سے الگ رکھا جائے تو اس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوگا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تجارتی اداروں کی ساکھ بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک مخصوص “کچن کابینہ” یا محدود حلقہ تقریباً ہر غیر ملکی دورے اور معاشی فورم میں دکھائی دیتا ہے، جبکہ وہ لوگ جو برسوں سے تجارت، صنعت، برآمدات اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ طرز عمل قومی مفاد کے بجائے انفرادی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔مرزا عبدالرحمان نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ کاروباری برادری کو اپنا شراکت دار سمجھے، کیونکہ ملکی معیشت کی مضبوطی صرف سرکاری اعلانات سے نہیں بلکہ نجی شعبے کے اعتماد، سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے سے ممکن ہے۔ اگر پاکستان واقعی ترکیہ سمیت دیگر دوست ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے تو ہر سرکاری تجارتی وفد میں ایف پی سی سی آئی اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو شامل کرنا ہوگا۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی سطح پر تشکیل دیے جانے والے تمام تجارتی وفود میرٹ، تجربے اور متعلقہ شعبے کی نمائندگی کی بنیاد پر بنائے جائیں، تاکہ پاکستان کی صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے مفادات کا مؤثر انداز میں دفاع کیا جا سکے۔مرزا عبدالرحمان نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دیں کہ مستقبل میں کسی بھی بین الاقوامی بزنس فورم یا تجارتیح وفد میں پاکستان کی نمائندہ کاروباری تنظیموں، خصوصاً ایف پی سی سی آئی، کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک ادارے کا نہیں بلکہ پوری پاکستانی کاروباری برادری کے وقار اور قومی معیشت کے مستقبل کا معاملہ ہے۔انہوں نے آخر میں کہا کہ پاکستان کی کاروباری برادری ملک کی اقتصادی ترقی، برآمدات میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور قومی خزانے کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور کاروباری ادارے باہمی اعتماد، مشاورت اور شراکت داری کے اصولوں پر آگے بڑھیں تاکہ پاکستان عالمی اقتصادی میدان میں زیادہ مضبوط، باوقار اور مؤثر انداز میں اپنی جگہ بنا سکے۔ یہی قومی مفاد، مضبوط معیشت اور خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے۔
