اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کو درپیش اہم ترین چیلنجز میں سے ایک ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔
وزیراعظم کی زیرصدارت بہبودِ آبادی سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں آبادی میں اضافے کی شرح، نیشنل پاپولیشن کونسل کے آئندہ اجلاس اور قومی حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد منعقد کیا جائے گا، جس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور متعلقہ اداروں کے نمائندے شریک ہو کر آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں گے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ نیشنل پاپولیشن کونسل سیکریٹریٹ کے آپریٹنگ طریقہ کار کو حتمی شکل دی جا چکی ہے، جبکہ نیشنل اسٹیبلائزیشن پلان 2026-2035 بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح کو موجودہ 2.55 فیصد سے کم کر کے 2035 تک 1.25 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ نئے فریم ورک میں صحت، تعلیم، نوجوانوں کی ترقی، خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت، پیشہ ورانہ تربیت اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ بعض سماجی تحفظ کے حکومتی پروگراموں کو بھی بہبودِ آبادی کے اہداف سے منسلک کرنے پر کام جاری ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور انسانی وسائل کی بہتری کی بنیاد ہے، اس لیے آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی کے وژن کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ بہبودِ آبادی کے اقدامات کے لیے صوبوں کے ساتھ مؤثر رابطہ اور تعاون مزید مضبوط بنایا جائے، جبکہ عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے بھرپور آگہی مہم بھی چلائی جائے۔
وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد طلب کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔
اجلاس میں وفاقی وزرا، اعلیٰ سرکاری حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔