سعودی عرب کی حمایت پر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عسکری قیادت کا ہنگامی اجلاس
ریاض: یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب کی حمایت اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ممکنہ تعاون کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کے دوران عسکری سربراہان کے ہنگامی اجلاس کی تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا گیا ہے۔
ملاقات کے دوران تینوں وزرائے خارجہ نے سعودی عرب میں مکہ مکرمہ سمیت شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف علاقوں کو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے ہیں، جبکہ سعودی حکام کے مطابق متعدد میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکا گیا ہے۔
تینوں ممالک اس سے قبل بھی مکہ دفاعی معاہدے کے تحت دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے اقدامات کر چکے ہیں، جبکہ 31 اگست کو استنبول میں وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان کی سطح پر اجلاس بھی منعقد ہوا تھا۔
