سپریم کورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی، ریونیو ریکارڈ اور سرکاری اراضی کے تحفظ پر سنگین سوالات
تحقیقاتی رپورٹ
رانا تصدق حسین
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں زمینوں کے معاملات سے متعلق ایک ایسا قانونی اور انتظامی معمہ سامنے آیا ہے جس نے سرمایہ کاروں، قانونی ماہرین اور عام شہریوں کو یکساں طور پر حیران کر دیا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر زمین اسلام آباد میں واقع ہے تو اس سے متعلق رجسٹریشن اور دیگر قانونی کارروائیوں کے حوالے سے مختلف شہروں کے کردار کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب کون دے گا؟
سپریم کورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق سامنے آنے والے دستاویزی معاملات نے نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ ریونیو نظام کی شفافیت پر بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ متاثرہ فریقین مطالبہ کر رہے ہیں کہ زمین کی ملکیت، انتقالات، حد بندیوں، ریونیو ریکارڈ، منظوریوں اور تمام متعلقہ کارروائیوں کی آزادانہ جانچ کی جائے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آسکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ معاملہ صرف ایک ہاؤسنگ سوسائٹی تک محدود نہیں بلکہ پورے ریونیو اور لینڈ مینجمنٹ نظام کی ساکھ سے جڑا ہوا ہے۔
اسی تناظر میں کشمیر ہائی وے سے ملحقہ علاقوں میں زمینوں کے تنازعات اور مبینہ تجاوزات دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ مختلف حلقے الزام عائد کرتے ہیں کہ بعض بااثر ہاؤسنگ منصوبوں نے سرکاری اور قیمتی اراضی پر دعوے قائم کیے جبکہ متعلقہ ریکارڈ اور حد بندیوں کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔
شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران کی گئی تمام حد بندیوں، انتقالات، ریونیو کارروائیوں اور زمینوں سے متعلق سرکاری فیصلوں کا آزادانہ فرانزک آڈٹ کیا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی یا اختیارات کے غلط استعمال کی نشاندہی ہو سکے۔
شفافیت کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اگر ریونیو عملے کے بعض ارکان کے خلاف زیرِمیز معاملات، مالی مفادات یا غیر معمولی فیصلوں کے الزامات سامنے آ رہے ہیں تو ان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔
یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اور دیگر متعلقہ ادارے ریونیو ریکارڈ، مالی معاملات، اثاثوں، حد بندیوں اور زمینوں کی منتقلی سے متعلق تمام ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیں تاکہ عوامی مفاد کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں اور قومی اثاثوں کی زمینوں کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر کسی جگہ سرکاری زمین، قومی شاہراہوں سے متعلق اراضی یا دیگر ریاستی اثاثوں پر غیر قانونی قبضوں یا تجارتی سرگرمیوں کے الزامات موجود ہیں تو ان کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
نور پور شاہان، بری امام اور دیگر علاقوں کے رہائشی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا قانون سب کے لیے یکساں ہے؟ کیا غریب شہری اور بااثر ہاؤسنگ سوسائٹیاں ایک ہی قانونی پیمانے پر پرکھی جا رہی ہیں؟
شہریوں کا کہنا ہے کہ ملک میں دو الگ الگ قوانین نہیں ہو سکتے۔ ایک قانون عام شہریوں کے لیے اور دوسرا بااثر کاروباری یا ہاؤسنگ مفادات کے لیے۔
اب تمام نظریں چیف کمشنر اسلام آباد، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، قومی احتساب بیورو اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے متعلقہ حکام پر مرکوز ہیں۔
سرمایہ کار، متاثرین اور شہری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا متعلقہ ادارے بروقت مداخلت کریں گے؟ کیا حقائق سامنے لائے جائیں گے؟ اور کیا قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا؟
جوابات ابھی آنا باقی ہیں، مگر ایک بات واضح ہے کہ یہ معاملہ صرف زمین کا نہیں بلکہ شفافیت، احتساب، حکمرانی اور قانون کی یکساں عملداری کا امتحان بن چکا ہے۔
قوم اب دستاویزی حقائق، سرکاری وضاحتوں اور مؤثر کارروائی کی منتظر ہے۔