زیلنسکی کا انکشاف: یوکرین کو فضائی دفاعی میزائلوں کی شدید کمی، اتحادی ممالک سے فوری مدد کی اپیل
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے جاری میزائل حملوں کے تناظر میں یوکرین کو فضائی دفاعی میزائلوں، خصوصاً اینٹی بیلسٹک انٹرسیپٹرز، کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے اپنے بین الاقوامی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ فضائی دفاع کے لیے درکار میزائلوں کی فراہمی میں مزید تیزی لائیں تاکہ یوکرین اپنے شہریوں اور اہم تنصیبات کو بہتر انداز میں محفوظ بنا سکے۔
زیلنسکی کے مطابق حالیہ مہینوں میں روس نے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس کے باعث یوکرین کے فضائی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید فضائی دفاعی نظام صرف اسی وقت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں جب ان کے لیے مطلوبہ انٹرسیپٹر میزائل مسلسل دستیاب ہوں۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اتحادی ممالک کی جانب سے دفاعی امداد کی رفتار میں کمی کے باعث یوکرین کو اپنے فضائی دفاع کو برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادی ممالک کے پاس ضروری میزائل موجود ہیں، تاہم ان کی بروقت فراہمی انتہائی ضروری ہے تاکہ روسی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کو کم کیا جا سکے۔
حالیہ دنوں میں روس نے یوکرین کے مختلف شہروں، خصوصاً دارالحکومت کیف، پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ یوکرینی حکام کے مطابق متعدد ڈرون تو مار گرائے گئے، لیکن بیلسٹک میزائلوں کو روکنے میں شدید مشکلات پیش آئیں کیونکہ انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت موجود ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پیٹریاٹ جیسے جدید فضائی دفاعی نظام بیلسٹک میزائلوں کے خلاف یوکرین کے سب سے مؤثر ہتھیاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ تاہم ان نظاموں کی افادیت کا انحصار مناسب تعداد میں انٹرسیپٹر میزائلوں کی دستیابی پر ہوتا ہے۔ اگر یہ ذخائر کم ہو جائیں تو فضائی دفاع کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
زیلنسکی نے اپنے حالیہ بیانات میں اتحادی ممالک سے نہ صرف اضافی میزائل فراہم کرنے بلکہ مستقبل میں ان کی پیداوار بڑھانے کے لیے بھی تعاون کی اپیل کی ہے۔ یوکرین اس وقت مغربی ممالک کے ساتھ دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے اور فضائی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
سیاسی اور عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں فضائی دفاع فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ جدید انٹرسیپٹر میزائلوں کی دستیابی نہ صرف شہری آبادی بلکہ توانائی، ٹرانسپورٹ اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے بھی ضروری سمجھی جا رہی ہے۔
آنے والے ہفتوں میں عالمی اتحادیوں کے فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ یوکرین کو دفاعی امداد کس رفتار سے فراہم کی جاتی ہے اور وہ اپنی فضائی دفاعی صلاحیت کو کس حد تک برقرار رکھ پاتا ہے۔
