اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے پولیس سروس کے افسر تنویر احمد طاہر کی ترقی سے متعلق اپیل مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں قائداعظم محمد علی جناح کے اس اصول کا حوالہ دیا ہے کہ سرکاری افسران کو سیاسی دباؤ اور سیاستدانوں کے اثر سے آزاد ہو کر فرائض انجام دینے چاہییں۔
جسٹس علی باقر نجفی کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں قائداعظم کی اپریل 1948 میں پشاور میں سول افسران سے کی گئی تقریر کا حوالہ دیا گیا۔ فیصلے کے مطابق قائداعظم نے واضح کیا تھا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن سول سروس ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اسے برقرار رہنا ہوتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری افسران کو دیانت داری اور بلاخوف ریاست اور عوام کی خدمت کرنی چاہیے۔ فیصلے میں سیاسی مداخلت کو بدعنوانی، رشوت ستانی اور اقربا پروری جیسے مسائل سے جوڑا گیا۔
تنویر احمد طاہر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے 15 فروری 2022 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے انہیں گریڈ 19 سے گریڈ 20 میں ترقی نہ دینے اور جونیئر افسران کی ترقی کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
مقدمے کے مطابق تنویر احمد طاہر نے 1999 میں سی ایس ایس امتحان پاس کرکے پولیس سروس آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ انہیں 22 جون 2007 کو گریڈ 18 اور 16 جنوری 2015 کو گریڈ 19 میں ترقی دی گئی۔
نیب ریفرنس میں سزا کے باعث 2018 اور 2019 کے دوران ان کی ترقی مؤخر ہوئی۔ بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے 8 نومبر 2019 کو انہیں ایک ریفرنس سے بری کر دیا، جس کے بعد 24 جنوری 2020 کو انہیں ملازمت پر بحال کیا گیا۔
جنوری 2020 میں سینٹرل سلیکشن بورڈ کے اجلاس میں ان کی ترقی کا معاملہ دوبارہ زیر غور آیا، تاہم نیب کا ایک اور ریفرنس زیر التوا ہونے کی بنیاد پر انہیں ترقی نہیں دی گئی، جبکہ ان کے جونیئر افسران کو ترقی دے دی گئی۔
تنویر احمد طاہر کی درخواست اور انٹرا کورٹ اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی مسترد کر چکی تھی۔ ہائی کورٹ کے مطابق ترقی سے متعلق فیصلہ قواعد و ضوابط اور سول سرونٹس پروموشن رولز 2019 کے تحت کیا گیا تھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے بھی اپیل خارج کر دی۔
