اسلام آباد :(عبدالوہاب خان )ایف پی سی سی آئی کے سابق چیئرمین کوآرڈینیشن اور اٹک چیمبر آف کامرس کے بانی صدر مرزا عبدالرحمن نے ملکی معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں معاشی مشکلات مسلسل بڑھ رہی ہیں اور حکومت معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں تاحال کامیاب نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود ساڑھے گیارہ فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معیشت کو اب بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے۔مرزا عبدالرحمن نے کہا کہ ملک میں کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے صنعتکار، تاجر اور سرمایہ کار مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزگار کے محدود مواقع نے عام آدمی کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ ان کے مطابق صحت، تجارت اور دیگر بنیادی شعبے بھی موجودہ معاشی حالات سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں، جس کے باعث عوام کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی تقریباً 25 کروڑ آبادی میں سے کروڑوں افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جو ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ غربت میں اضافہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ یہ صحت، تعلیم، روزگار اور معاشرتی استحکام سمیت دیگر شعبوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔مرزا عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے حکومت کو فوری طور پر جامع اور مؤثر معاشی پالیسی تشکیل دینا ہوگی، کاروباری طبقے کو سہولیات فراہم کرنا ہوں گی اور تجارت و صنعت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشی سرگرمیوں کو بحال نہ کیا گیا تو عوام پر مہنگائی اور غربت کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے، اس لیے حکومت کو معیشت کی بحالی اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔