اسلام آباد: مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت کو تاحال دنیا کے کسی بھی ملک کی جانب سے باضابطہ سفارتی تسلیم نہیں کیا گیا، جبکہ انسانی حقوق اور حکمرانی سے متعلق خدشات بدستور عالمی توجہ کا مرکز ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی پالیسی حلقوں میں افغانستان اب پہلے جیسی ترجیح نہیں رہا اور اسے خارجہ پالیسی کے اہم ایجنڈے سے بڑی حد تک الگ تصور کیا جا رہا ہے۔
عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد امریکہ نے طالبان حکومت کو افغانستان کی قانونی حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 31 اگست 2021 سے کابل میں امریکی سفارت خانے کی سفارتی سرگرمیاں معطل ہیں، جبکہ امریکی انتظامیہ نے 2025 کے دوران افغانستان کے لیے متعدد امدادی پروگرام بھی روک دیے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے افغان شہریوں کے لیے اسپیشل امیگرنٹ ویزا سمیت مختلف اقسام کے ویزوں کے اجرا کو بھی محدود یا معطل کر رکھا ہے۔ امریکی حکام ماضی میں اپنے شہریوں کی گرفتاریوں پر طالبان کے اقدامات کو “یرغمال سفارت کاری” قرار دے چکے ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افغانستان کو امریکہ کی نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹیجی 2025 اور نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی 2026 میں شامل نہیں کیا گیا۔
اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ ایسے گروہ کے ساتھ مکمل اعتماد پر مبنی تعلقات قائم نہیں کر سکتا جس پر امریکی شہریوں کی گرفتاریوں اور افغان عوام کے حقوق سے متعلق سنگین خدشات موجود ہوں۔
واضح رہے کہ طالبان حکومت مسلسل بین الاقوامی سطح پر باضابطہ سفارتی تسلیم کیے جانے کی خواہاں ہے، تاہم اس حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے اب تک کوئی متفقہ پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔