مظفرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا احترام یقینی بنایا جانا چاہیے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف سے مطالبہ کیا کہ وہ بائیکاٹ کی سیاست چھوڑ کر شفاف انتخابات کے لیے مشترکہ جدوجہد میں شامل ہو۔
مظفرآباد میں پارٹی کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتخابات کے بعد ایک آئینی کنونشن بلانے کی تجویز دی جائے گی، جس میں حکومت، اپوزیشن، مہاجرین کے نمائندوں، وکلا اور سول سوسائٹی کو شریک کیا جائے گا تاکہ آئینی اور انتخابی امور پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے مستقبل سے متعلق فیصلے منتخب قانون ساز اسمبلی کرے۔ ان کے مطابق عوام کے ووٹ کا احترام، حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع یقینی بنانا ضروری ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں مختلف ترقیاتی منصوبے مکمل کیے، جن میں جامعات کے قیام اور انٹرنیٹ سہولت کی فراہمی شامل ہے، جبکہ ان کا دعویٰ تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں عوامی توقعات کے مطابق ترقیاتی کام نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ آزاد کشمیر کی الگ شناخت برقرار دیکھنا چاہتے ہیں اور اسے کسی دوسرے صوبے کے طرز پر نہیں دیکھنا چاہتے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا کہ انتخابات سے متعلق تمام ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتخابی عمل شفاف رہا ہے تو ریکارڈ جاری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد کو مقدم رکھیں اور انتخابی عمل پر اٹھنے والے اعتراضات کا شفاف انداز میں جائزہ لیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ان کی جماعت اپنے ووٹ اور مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے آئینی اور جمہوری طریقے سے جدوجہد جاری رکھے گی۔
جلسے کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریک انصاف سے اپیل کی کہ وہ انتخابی بائیکاٹ کی پالیسی ترک کرے اور انتخابی اصلاحات کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرے۔
انہوں نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی سمیت ہر اس سیاسی جماعت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں جو شفاف انتخابات، انتخابی اصلاحات اور جمہوری عمل کے استحکام کے مشترکہ ایجنڈے پر اتفاق رکھتی ہو۔