کوئٹہ میں ہونے والے ایک حملے میں ایک شہری جان کی بازی ہار گیا جبکہ ایک کمسن بچے سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ پٹیل روڈ کے علاقے میں پیش آیا، جس کی ذمہ داری حکام نے فتنہ الہندوستان سے منسلک دہشت گردوں پر عائد کی ہے۔
زخمی ہونے والے بچے ابرار احمد نے بتایا کہ وہ علاج کی غرض سے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اسپتال آیا تھا۔ اسپتال سے باہر نکلتے ہی اچانک دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا۔
ایک اور زخمی وزیر خان کے مطابق وہ ورکشاپ سے کام ختم کرنے کے بعد اپنے دوستوں کے ساتھ گھر جا رہا تھا کہ دھماکے کی لپیٹ میں آگیا۔ اس نے بتایا کہ دھماکے کے بعد وہ بے ہوش ہوگیا اور ہوش آنے پر خود کو اسپتال میں پایا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے باعث شدت پسند عناصر دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہے۔
حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔