وزیراعظم شہباز شریف نے فیول ریلیف پروگرام کے تحت رجسٹرڈ شہریوں کو سبسڈی فراہم نہ کرنے والے پٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ انہوں نے پروگرام میں اب تک ہونے والی پیش رفت اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار بھی کیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت پرائم منسٹر فیول ریلیف پروگرام سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسکیم پر عمل درآمد اور رجسٹریشن کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ رجسٹریشن اور سبسڈی حاصل کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنانے سے شہریوں کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ مستحق افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چلائی جانے والی یہ شفاف سبسڈی اسکیم مستقبل میں عوامی فلاح کے دیگر منصوبوں کے لیے بھی ایک اہم مثال بن سکتی ہے۔ وزیراعظم نے مؤثر نگرانی اور ڈیش بورڈ کی تیاری پر وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، سیکریٹری آئی ٹی ضرار حاشم خان اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ فیول ریلیف اسکیم میں اب تک 15 کروڑ 51 لاکھ 92 ہزار 82 نہیں بلکہ 15,519,282 شہری رجسٹرڈ ہوچکے ہیں، جن میں 15.06 ملین موٹر سائیکل مالکان جبکہ 449 ہزار 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان شامل ہیں۔
بریفنگ کے مطابق مستحقین کے لیے مجموعی طور پر 63,153,685 ٹوکن جاری کیے گئے، جن میں سے 59,445,347 استعمال ہوچکے ہیں۔ جبکہ 4 نومبر 2026 تک اسکیم کے تحت 28.6 ارب روپے کی سبسڈی ادا کی جاچکی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ شہریوں کی رہنمائی اور شکایات کے اندراج کے لیے صارفین اور پٹرول پمپس کی سہولت کے پیش نظر الگ الگ کال سینٹرز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم نے واضح ہدایت کی کہ اسکیم میں شامل مستحق افراد کو ریلیف فراہم کرنے سے انکار کرنے والے پٹرول پمپس کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ، مصدق ملک، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک اور وزیر مملکت بلال اظہر کیانی سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی
