سندھ ہائیکورٹ نے لانڈھی کاٹیج انڈسٹریز کے تقریباً 2300 پلاٹس پر قبضے سے متعلق درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ الاٹیز نے پلاٹس کی رقم ادا کردی تھی، تاہم انہیں کئی دہائیوں سے زمین کا قبضہ نہیں دیا گیا۔
وکیل کے مطابق متعلقہ کمیٹی نے بھی پلاٹس سے تجاوزات ختم کرانے یا الاٹیز کو ان کی ادا کردہ رقم واپس کرنے کی سفارش کی تھی۔
سماعت کے دوران کے ایم سی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تجاوزات کے خلاف متعدد مرتبہ کارروائیاں کی گئیں، تاہم قابضین کی جانب سے بورڈ آف ریونیو کی لیز کا حوالہ دیا جاتا ہے۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بورڈ آف ریونیو نے 1963 میں یہ اراضی کے ایم سی کو 30 سالہ لیز پر دی تھی، جس کی مدت 1993 میں ختم ہوگئی تھی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ لیز ختم ہونے کے بعد انتظامیہ نے اراضی رہائشی مقاصد کے لیے الاٹ کی، تاہم بعد میں زمین کی ملکیت سے متعلق کے ایم سی اور بورڈ آف ریونیو کے درمیان تنازع پیدا ہوگیا۔
درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ وہ 1993 سے اپنے پلاٹس کے قبضے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان چکر لگا رہے ہیں۔
فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد سندھ ہائیکورٹ نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
