اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کردیئے گئے ہیں، جبکہ تینوں اضلاع میں اضافی پولیس نفری کی تعیناتی کا عمل جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک میں مجموعی طور پر تقریباً 65 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جانے کی تیاری کی گئی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں پر کنٹینرز بھی اسٹینڈ بائی رکھے جا رہے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں 22 ہزار سے زائد اہلکاروں کی تعیناتی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کے لیے 8 ڈی آئی جیز، 10 ایس ایس پیز اور 40 ایس پیز سمیت 58 ڈی ایس پیز اور 246 انسپکٹرز کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں 13 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے درمیان اہم گزرگاہ ضلع اٹک میں 30 ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کی تیاری ہے۔
پنجاب کے مختلف اضلاع سے اضافی نفری کو اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک منتقل کیا جا رہا ہے۔ ممکنہ آمدورفت کو محدود کرنے کے لیے راولپنڈی میں کنٹینرز تحویل میں لینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ راولپنڈی پولیس کو ساڑھے تین سو کنٹینرز تحویل میں لینے کا ہدف دیا گیا ہے، جبکہ جڑواں شہروں کی اہم شاہراہوں کے اطراف بھی کنٹینرز اسٹینڈ بائی رکھے گئے ہیں۔
اسلام آباد میں اضافی نفری کی رہائش کے لیے 100 سے زائد عمارتوں کا سروے مکمل کرلیا گیا ہے۔ اضافی اہلکاروں کو اسپورٹس کمپلیکس، پاک چائنا فرینڈشپ سینٹر اور مختلف تعلیمی اداروں میں ٹھہرانے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
اسی طرز پر راولپنڈی اور اٹک میں بھی اضافی نفری کی رہائش کا انتظام کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے رپورٹ متعلقہ حکام کو پیش کردی گئی ہے، جبکہ ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر راولپنڈی پولیس کے اہلکاروں کی چھٹیاں پہلے ہی منسوخ کی جاچکی ہیں۔
