موسیٰ خیل (خانزادہ موسیٰ خیل، ڈسٹرکٹ نیوز) جمعیت علمائے اسلام کے سرگرم رکن مختیار احمد کدیزئی سے متعلق قتل کے مقدمے کے باعث پیدا ہونے والا تنازع قبائلی عمائدین اور علماء کرام کی کوششوں سے خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہو گیا۔ سابق صوبائی وزیر اور جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے نائب امیر مولانا محمد سرور نے جرگے کی سربراہی کرتے ہوئے فریقین کے درمیان صلح کرانے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ نوابزادہ محبوب خان جوگیزئی بھی جرگے میں شریک تھے۔
تفصیلات کے مطابق مختیار احمد کدیزئی کی گرفتاری اور ان کے اہل خانہ کو درپیش مشکلات کے پیش نظر مولانا محمد سرور نے قبائلی عمائدین کو متحرک کیا اور جرگے کے ذریعے تنازع حل کرنے کے لیے کوششیں شروع کیں۔
اس سلسلے میں موسیٰ خیل، لورالائی، دکی، قلعہ سیف اللہ اور کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین، علماء کرام اور نوابزادہ محبوب خان جوگیزئی سمیت دیگر معزز مشران مولانا محمد سرور کی قیادت میں جامعہ مخزن العلوم لورالائی میں جمع ہوئے۔ نماز مغرب کے بعد جرگے کے تمام شرکاء مقتول کے گھر پہنچے، جہاں مقتول کے ورثاء نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلے کا اختیار مولانا محمد سرور اور معزز جرگے کے سپرد کر دیا۔
جرگے کے مشران کی باہمی مشاورت اور کوششوں کے نتیجے میں دونوں فریقین کے درمیان باضابطہ صلح ہو گئی۔ فریقین نے سابقہ رنجشیں اور تلخیاں بھلا کر باہمی اتفاق، محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہنے پر اتفاق کیا۔ صلح کے بعد علاقے میں امن و سلامتی اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
علاقائی حلقوں نے جرگے کے ذریعے تنازع کے حل کو قبائلی روایات، تحمل اور برداشت کی مثال قرار دیتے ہوئے مولانا محمد سرور اور دیگر جرگہ مشران کی کوششوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات علاقے میں امن و امان اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈسٹرکٹ نیوز — خبر وہی، جو حقیقت کے قریب!
