کراچی: سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے بنانا آئی ایس پی آر کا کام نہیں بلکہ پارلیمان اور اسمبلیوں کا اختیار ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں طویل عرصے بعد سیاسی اور عوامی یکجہتی دیکھنے میں آئی ہے۔ ان کے مطابق بعض ٹی وی پروگرامز میں غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی جا رہی ہے، جس سے عوام میں نفرتیں پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ سندھ کی تقسیم کسی صورت قابل قبول نہیں اور جو لوگ نئے صوبے کی بات کر رہے ہیں انہیں اس معاملے کی حساسیت کو سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کا صوبے کے ساتھ ایک گہرا تاریخی اور جذباتی تعلق ہے۔
سعید غنی نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں نئے صوبے کے مطالبے کے حوالے سے ایم کیو ایم کے بعض رہنما سرگرم ہیں، تاہم دیگر سیاسی جماعتیں بھی سندھ کی تقسیم کے خلاف ہیں۔
انہوں نے ماضی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان بلدیاتی نظام سے متعلق معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے لیے الگ نظام متعارف کرانے پر سندھ بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا، جس کے بعد احتجاج کے نتیجے میں اس نظام کو واپس لینا پڑا۔
سعید غنی کا کہنا تھا کہ سندھ کی تقسیم کی بات کرنے والوں کو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا اور سندھ کے لوگ اس معاملے پر پیپلز پارٹی کو بھی خاموش نہیں رہنے دیں گے۔
جماعت اسلامی کے احتجاج پر بھی صوبائی وزیر نے تنقید کی اور کہا کہ سڑکیں بند کرنے سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کی قیادت کو مشورہ دیا کہ احتجاج کے دوران عوامی مشکلات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
