وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان ریلویز مسافروں اور مال برداری کے لیے کم لاگت اور مؤثر ترین ذرائع نقل و حمل میں شامل ہے، جبکہ جدید ریلوے نظام ملکی معیشت، تجارت اور علاقائی روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے سے پاکستان کو خطے میں تجارت اور لاجسٹکس کے ایک اہم مرکز کے طور پر فروغ ملے گا۔
وزیراعظم نے تمام ترقیاتی منصوبے مقررہ مدت اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مین لائن ون (ML-1) کے روہڑی تا ملتان سیکشن کی اپ گریڈیشن سے متعلق جامع تجاویز بھی طلب کر لیں۔
اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایم ایل ون (ML-1)، ایم ایل تھری (ML-3)، تھر کول ریلوے کنیکٹیویٹی اور دیگر منصوبوں پر پیش رفت جاری ہے۔ حکام کے مطابق ایم ایل ون کے کراچی تا روہڑی سیکشن کا تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن مکمل ہو چکا ہے، جبکہ ایم ایل تھری کے روہڑی تا نوکنڈی سیکشن کی اپ گریڈیشن پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) اور برج فنانسنگ کے ذریعے کی جائے گی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ تھر کول ریلوے کنیکٹیویٹی منصوبے کے تحت تھر کول سے چھور ریلوے اسٹیشن تک 112 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کا تقریباً 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ منصوبے کو دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ریلوے اصلاحات کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ریلوے کے زیر انتظام اسکولوں اور اسپتالوں کی خدمات آؤٹ سورس کر دی گئی ہیں، جبکہ چھ بڑے ریلوے اسٹیشنوں کی کمرشلائزیشن کا عمل بھی شروع کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزرا، مشیران اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔