پشاور: ضلع ٹانک میں پولیو ورکرز کے اغوا کے واقعے کے بعد ضلع مہمند میں پولیو ٹیم پر فائرنگ کے نتیجے میں ڈیوٹی پر تعینات دو پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ضلع مہمند کے تھانہ پنڈیالی کی حدود میں واقع علاقے تمانزئی میں پولیو مہم کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے ٹیم پر فائرنگ کردی۔
ڈی پی او مہمند رضا محمد خان کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک اہلکار معمولی زخمی ہوا۔ واقعے میں ایک دہشت گرد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت ظہور اور عربی کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ زخمی اہلکار صابر بتایا گیا ہے۔
واقعے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک میں چار پولیو ورکرز کے اغوا اور مہمند میں پولیو ٹیم پر حملے کے دوران دو پولیس اہلکاروں کی شہادت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعات کی مذمت کی ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پولیو ورکرز بچوں کے محفوظ مستقبل اور صحت مند پاکستان کے لیے قومی ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔
ادھر گورنر خیبر پختونخوا کی مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، ریلیف، بحالی و آبادکاری ثمر ہارون بلور نے بھی ضلع مہمند میں پولیو مہم کے دوران پولیس اہلکاروں پر فائرنگ اور ضلع ٹانک میں پیش آنے والے اغوا کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
