کراچی: پاکستان میں فری لانسنگ مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور رواں مالی سال کے دوران پاکستانی فری لانسرز کی آمدنی 2.5 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا امکان ہے۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن کے بانی و چیئرمین ابراہیم امین کے مطابق پاکستان دنیا کی چوتھی بڑی ابھرتی ہوئی فری لانسنگ مارکیٹ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ گزشتہ مالی سال پاکستانی فری لانسرز کی برآمدی آمدن 1.76 ارب ڈالر رہی، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے ماہ جولائی میں فری لانسرز نے 17 ملین ڈالر کی برآمدی آمدن حاصل کی۔
ابراہیم امین نے بتایا کہ حکومت نے پاکستانی فری لانسرز کی کامیابی کو سراہنے کے لیے 29 اگست کو گورنر ہاؤس کراچی میں تقریب کا اہتمام کیا ہے، جس میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ بھی شرکت کریں گی۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یوٹیوب پر فعال تعلیمی پلیٹ فارمز پر عائد 5 فیصد ٹیکس ختم کیا جائے یا اسے کم کرکے ایک فیصد کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اور تفریحی پلیٹ فارمز کو ایک ہی کیٹیگری میں رکھنا مناسب نہیں۔
ابراہیم امین کے مطابق پاکستان میں فری لانسرز کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور حکومت کی معاون پالیسیوں کے نتیجے میں اس تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے پاکستان کی آئی ٹی خدمات کی برآمدی آمدن میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
