اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزے کے لیے مذاکرات شروع ہوگئے ہیں، جن کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو مجموعی طور پر 1.2 ارب ڈالر تک ملنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف مشن ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کے تحت قرض پروگرام کی پانچویں قسط کے لیے پاکستان پہنچا ہے۔ مذاکرات کا سلسلہ تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے کی توقع ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اسٹیٹ بینک حکام کے ساتھ تکنیکی مذاکرات ہوں گے، جن میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، بنیادی شرح سود، ایکسچینج ریٹ اور معاشی کارکردگی پر بات چیت کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد رکھنے کا ہدف حاصل کرلیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف مشن کو براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، یورو بانڈ اور بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔
اسٹیٹ بینک کے ساتھ مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف مشن 25 ستمبر کو اسلام آباد روانہ ہوگا، جہاں وزارت خزانہ، نجکاری، توانائی اور ایف بی آر حکام کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔
مذاکرات میں توانائی کے شعبے کی اصلاحات، بجلی و گیس کے سرکلر ڈیٹ اور دیگر معاشی اہداف بھی زیر بحث آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مزید 20 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان ہے۔
