اسلام آباد: وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے مختلف امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان اور سیکرٹری تجارت جواد پال بھی شریک تھے۔ سیکرٹری تجارت نے بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے، تاہم بعض تکنیکی نکات پر امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر سے مزید بات چیت درکار ہے۔
جام کمال خان نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دینا پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
ملاقات میں پاکستانی آم اور کھجور کی امریکی منڈیوں تک رسائی پر بھی گفتگو ہوئی۔ سیکرٹری تجارت نے پاکستانی آم کی برآمدات کے لیے امریکی معائنہ ٹیموں کے دوروں میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ بلوچستان کی کھجور کو امریکی منڈی تک رسائی دینے سے کاشتکاروں اور برآمدکنندگان کو فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی۔
امریکی وفد نے پاکستانی زرعی مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی کے معاملات پر متعلقہ حکام سے رابطے کی یقین دہانی کرائی۔ اس کے علاوہ امریکا سے کپاس اور سویابین کی درآمدات بڑھانے اور تجارتی مالی معاونت کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔
وفاقی وزیر تجارت نے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، فوڈ پروسیسنگ اور کولڈ چین کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کرتے ہوئے امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے امریکی کاروباری اداروں کو 23 سے 26 نومبر تک کراچی میں منعقد ہونے والی فوڈ ایگ 2026 نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
ملاقات کے دوران معدنیات، کان کنی، تکنیکی تعاون اور ہنرمند افرادی قوت کی تربیت کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ امریکی وفد نے پاکستان کے معدنیاتی شعبے میں سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔
جام کمال خان نے حب بلوچستان کو صنعتی سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ اور خصوصی اقتصادی زونز کے لیے اہم قرار دیا۔ فریقین نے افغانستان اور وسطی ایشیا کی منڈیوں تک زمینی تجارتی راستوں کو درپیش مسائل پر بھی گفتگو کی۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے تجارتی مذاکرات آگے بڑھانے، مارکیٹ تک رسائی کے مسائل حل کرنے اور ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
