نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ایسے مقدمات کا جلد فیصلہ ہو اور ملوث افراد کو سخت سزا دی جا سکے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں نریندر مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور امتحانی نظام کو نقصان پہنچانے یا طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے بیان کے بعد بھی مختلف شہروں میں طلبہ کے احتجاج جاری ہیں، جہاں مظاہرین حکومت کے ردعمل میں تاخیر پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت تعلیمی نظام کو بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت نے تعلیمی نظام کو کمزور ہونے دیا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بروقت کارروائی نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین اہم مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے معذرت کرنا اور مظاہرین پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کے خلاف احتجاج اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات گزشتہ کئی روز سے جاری ہیں۔ حالیہ مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد یہ معاملہ ملک بھر میں سیاسی اور عوامی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔