ژوب (نیرندیم) پشتونخوا میپ کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی مرکزی سیکرٹری اطلاعات تالیمند خان ڈاکٹر قطب الدین شیرانی اور دیگر نے کہا ہے کہ اکابرین نے ملک کا قیام اس فکر کے ساتھ کیا تھا کہ ملک میں بسنے والی تمام اقوام برابری کی بنیاد پر زندگی گزاریں گی، تاہم آج پشتون قوم کو اپنے بنیادی، قومی اور معاشی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ پشتونوں کی روایتی پگڑی جو عزت اور وقار کی علامت سمجھی جاتی تھی، آج اسے دہشت گردی سے جوڑ دیا گیا ہے جس کے باعث پشتون اپنی شناخت کے ساتھ جانے میں بھی مشکلات محسوس کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پشتون وطن کو قدرتی وسائل سے مالا مال کیا ہے، مگر پشتون علاقوں کے عوام کو اپنے وسائل پر کوئی اختیار حاصل نہیں اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ پشتونوں کی بے اتفاقی اور سیاسی کمزوری ہے انہوں نے کہا کہ اقوام نے اپنے اپنے وطن کے دفاع اور حقوق کے لیے قربانیاں دی ہیں، تاہم اقوام زمینوں اور وسائل سے متعلق فیصلوں میں مقامی آبادی کے مفادات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ پشتون بلوچ صوبے کو ملنے والے بجٹ اور وسائل کی تقسیم میں بھی پشتون علاقوں کو حق نہیں مل رہا جبکہ بجٹ اور روزگار کے مواقع میں بھی میرٹ کے بجائے ہم پر کوٹہ سسٹم تھوپ دیا گیا ہے انہوں نے اضلاع کی تشکیل اور آبادی کے تناسب پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ اضلاع ڈیرہ لاکھ آبادی پر قائم ہیں جبکہ پشتون علاقوں میں کئی اضلاع کی آبادی ساڑھے چار لاکھ سے بھی زیادہ ہے انہوں نے کہا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے۔
پشتونخوا میپ رہنماؤں نے کہا کہ اسمبلی کی نشستوں، ملازمتوں اور تبادلوں سمیت مختلف معاملات میں مبینہ طور پر پیسوں کا استعمال ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق غریب والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے مشکلات برداشت کرتے ہیں، لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار کے حصول کے لیے بھی انہیں پیسے دینے پڑتے ہیں انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں میں عوام کے حقیقی مسائل اجاگر کرنے کے بجائے ایسے افراد پہنچا دئیے گئے ہیں جو مبینہ طور پر کروڑوں روپے خرچ کرکے نشستیں حاصل کرتے ہیں جس کے باعث عوامی مسائل مؤثر انداز میں سامنے نہیں آتے مقررین نے ملک کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے ساتھ کیا گیا سلوک تشویش ناک ہے انتخابات میں انتخابی نشان واپس لیے جانے کے باوجود عوام نے عمران خان کے حق فیصلہ دیا مگر صرف 18 نشستیں جیتنے والے کو حکومت دے دی گئی انہوں نے کہا کہ ملک کا عام شہری اور بچہ بچہ قرضوں کے بوجھ سے متاثر ہے جبکہ حکمران خاندانوں کی جانب سے اربوں روپے کے جہاز اور مہنگی گاڑیوں پر اخراجات کیے جا رہے ہیں دوسری جانب یہاں کے بچے تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محروم ہیں اور روزگار کے لیے کوئلے کی کانوں سمیت خطرناک مقامات پر مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، جہاں متعدد بچے اور نوجوان حادثات کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں انہوں نے نے مطالبہ کیا کہ ملک میں آئین کی بالادستی، جمہوری اصولوں، میرٹ، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور تمام اقوام کو مساوی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے مقررین نے کہا کہ بھٹو کی پھانسی پر پر مگرمچھ کے آنسو بہانے والے عناصر آج اور بھی بڑی غلطیاں کر رہے ہیں مختلف سیاسی قوتیں مفادات کی تلاش میں ہیں، جس کے نتیجے میں ملک کو مزید خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے انہوں نے کہا کہ پشتونخوا قومی پارٹی کی تاریخ وطن اور عوام کے لیے جدوجہد اور قربانیوں سے عبارت ہے پارٹی کسی کو بندوق اٹھانے پر مجبور نہیں کرتی بلکہ عوام سے صرف پرامن سیاسی جدوجہد میں شامل ہونے کی اپیل کرتی ہے مقررین نے کہا کہ عوام اپنے حقوق کے حصول کے لیے آئینی، جمہوری اور پرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کریں۔
